سوشل میڈیا کے استعمال کےتقاضے
سائنس نے جو حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے، جس کی مقبولیت میں تمام تر پابندیوں اور قوانین کے باوجود اضافہ ہورہا ہے۔
سائنس نے جو حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے، جس کی مقبولیت میں تمام تر پابندیوں اور قوانین کے باوجود اضافہ ہورہا ہے۔
سوشل میڈیا کا استعمال آج کل انسانی ذہن اور نفسیات کیلئے ایک معمے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے سوسائٹی نے نظرانداز کیا ہے، اس کے مثبت استعمال پر تحریر
دین محض مذہب نہیں، مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسلام میں دین کا مفہوم وہ نہیں جو آج کے غلام ذہن نے محدود کردیا ہے۔
رمضان کی آمد محض ایک مہینے کی تبدیلی نہیں ہوتی، یہ دراصل دِلوں کے قبلے بدلنے کا موسم ہے، مگر وطنِ عزیز میں حسبِ روایت جیسے ہی رمضان کی آمد ہوتی ہے
پاکستان میں فری لانسنگ جدید ڈیجیٹل غلامی کی وہ شکل ہے جہاں نوجوان ڈالر کمانے کی دوڑ میں اپنی ذہنی صحت، خاندانی جڑت اور سماجی وجود گنوا رہے ہیں۔
آج کا انسان، بالخصوص پاکستانی معاشرہ، جس سب سے گہرے کرب سے گزر رہا ہے وہ محض غربت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ ایک درد و انبوہ میں ڈوبی بے کراں خاموش ۔۔۔۔
یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ
افراط زر کی شرح کو calculate کرنے کے لئے کنزیومر پرائس انڈیکس calculate کیا جاتا ہے۔مضمون میں اسی معیار کے ذریعے ایک موازنہ اور تجزیہ کیا گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں جب بھی ”کرپشن“ کا لفظ بولا جاتا ہے، تو اس سے صرف پیسے کی ہیراپھیری مراد لی جاتی ہے۔ حال آں کہ مالی اعدادوشمار تو صرف اس بیماری کی۔۔۔۔
درالحکومت کے وسط میں ایک عمارت تھی جسے لوگ ایوان کہتے تھے اسکے دروازے پر نہ کوئی مذہبی علامت تھی نہ قومی۔ فیصلے یہاں ہوتے ہیں اعلان کہیں اور۔
آج کا دن ان سب عظیم جوانوں کے نام جو شادی کے چند ہفتے بعد پردیس کی فلائٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا "ATM" بن جاتے ہیں۔۔۔۔
فطرت میں ہر چیز بڑھتی ہے پھر توازن بنا لیتی ہے۔ مگر ہمارا نظام بلا روک ٹوک بڑھنا چاہتا ہے جس کی کوئی حد متعین نہیں.